صحیح بخاری حدیث ۲۴۲۰ - نماز باجماعت کی تاکید

نماز باجماعت کی حدیث: جماعت چھوڑنے پر سخت تنبیہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۲۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى مَنَازِلِ قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں نے تو یہ ارادہ کر لیا تھا کہ نماز کی جماعت قائم کرنے کا حکم دے کر خود ان لوگوں کے گھروں میں جاؤں جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھر کو جلا دوں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ نماز کی جماعت قائم کرنے کا حکم دوں، پھر خود ان لوگوں کے گھروں کی طرف جاؤں جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے، اور ان کے گھروں کو جلا دوں۔ حدیث کا اصل موضوع نماز باجماعت کی اہمیت اور جماعت سے غفلت پر سخت تنبیہ ہے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت ارادہ بیان ہوا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کو معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس حدیث سے عملی سبق یہ ہے کہ مسلمان کو نماز کے معاملے میں سستی نہیں کرنی چاہیے، خاص طور پر جب جماعت میں حاضر ہونے کی قدرت ہو۔ یہ حدیث ہمیں نماز کی پابندی اور مسجد سے تعلق مضبوط کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز باجماعت کی بہت تاکید ہے۔
  • جماعت چھوڑنا معمولی غفلت نہیں سمجھنی چاہیے۔
  • نماز کے لیے حاضر ہونا عملی ذمہ داری ہے۔
  • مسجد اور جماعت سے تعلق مضبوط رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں