صحیح مسلم حدیث ۳۶۴۸ - بنی اسرائیل اور حوا کا ذکر
بنی اسرائیل اور حوا کی حدیث: کھانا، گوشت اور شوہر کا معاملہ
صحیح مسلم : ۳۶۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۴۸
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حدثنا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْبُثِ الطَّعَامُ ، وَلَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ " .
ابوہریرہ روایت:
فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی کھانا نہ سڑتا اور کوئی گوشت بھی اور اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر کی کبھی خیانت نہ کرتی۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۶۴۸ کا خلاصہ
اس روایت میں دو باتیں ذکر ہوئی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کھانا خراب نہ ہوتا اور گوشت نہ بدلتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر حوا علیہا السلام نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر کی کبھی خیانت نہ کرتی۔ بنی اسرائیل اور حوا کی حدیث مختصر الفاظ میں آئی ہے، اس لیے اسے بڑھا کر بیان کرنا مناسب نہیں۔ متن میں نہ کھانے کے خراب ہونے کی تفصیل دی گئی ہے، نہ گوشت کے بدلنے کا کوئی لمبا قصہ، اور نہ حوا علیہا السلام کے معاملے کی تفصیل۔ اس لیے اس حدیث کی شرح میں اصل الفاظ پر رہنا ضروری ہے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلی امت اور حوا علیہا السلام کا ذکر خاص انداز میں فرمایا۔ پڑھنے والے کو چاہیے کہ متن کو ادب کے ساتھ پڑھے اور اپنی طرف سے غیر ضروری بات نہ ملائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں بنی اسرائیل کے ساتھ کھانے اور گوشت کا ذکر آیا ہے۔
- اسی روایت میں حوا علیہا السلام کا ذکر شوہر کے معاملے کے ساتھ آیا ہے۔
- مختصر روایت میں اپنی طرف سے تفصیل بڑھانا مناسب نہیں۔
- حدیث کے الفاظ کو احتیاط اور ادب کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
