صحیح مسلم حدیث ۳۶۴۷ - حوا علیہا السلام کا ذکر
حوا علیہا السلام کی حدیث: شوہر کے معاملے میں خیانت کا ذکر
صحیح مسلم : ۳۶۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۴۷
حدثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ : أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت نہ کرتی۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۶۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حوا علیہا السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر کی خیانت نہ کرتی۔ حوا علیہا السلام کی حدیث کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جتنا متن میں بیان ہوا ہے۔ اس روایت میں تفصیلی واقعہ، اس کی کیفیت، یا کسی لمبی وضاحت کا ذکر نہیں آیا، اس لیے اپنی طرف سے قصے یا اضافی باتیں شامل نہیں کرنی چاہییں۔ حدیث کا متن شوہر اور بیوی کے تعلق کے ایک خاص پہلو کو بیان کرتا ہے اور حوا علیہا السلام کا نام لیتا ہے۔ اس میں الفاظ مختصر ہیں، اس لیے بیان بھی محتاط ہونا چاہیے۔ ایسی حدیث پڑھتے وقت ادب، احتیاط اور متن کی پابندی ضروری ہے، تاکہ بات وہی رہے جو روایت میں آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے مختصر الفاظ کو اسی حد تک بیان کرنا چاہیے۔
- حوا علیہا السلام کا ذکر شوہر کے معاملے کے ساتھ آیا ہے۔
- ایسی روایات میں اپنی طرف سے اضافی قصے شامل نہیں کرنے چاہییں۔
- حدیث کے متن کے ساتھ ادب اور احتیاط ضروری ہے۔
