صحیح مسلم حدیث ۳۶۴۶ - ناپسند عادت پر نفرت نہ کرو
ناپسند عادت پر نفرت نہ کرو: ازدواجی برداشت کی روایت
صحیح مسلم : ۳۶۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۴۶
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا أَبُو عَاصِمٍ ، حدثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالاحدیث مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۴۶ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے جو پچھلی حدیث میں آیا ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ مؤمن مرد کسی مؤمن عورت سے دشمنی نہ رکھے۔ اگر اسے ایک عادت پسند نہیں تو ممکن ہے دوسری عادت پسند ہو۔ اس طرح بیوی کی خوبی دیکھنے کی حدیث دوبارہ اس بات کو مضبوط کرتی ہے کہ گھر کے رشتے صرف خامیوں کی بنیاد پر نہیں چلتے۔ آدمی اگر ہر وقت ناپسند بات ہی دیکھے تو دل میں سختی آ سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ پسندیدہ عادت کو بھی سامنے رکھے تو معاملہ آسان ہو سکتا ہے۔ اس حدیث کا انداز بہت عملی ہے، کیونکہ ازدواجی زندگی میں ہر انسان دوسرے سے مکمل طور پر اپنی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا۔ اس لیے برداشت، نرمی اور انصاف کے ساتھ دیکھنا بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت ایک ہی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔
- بیوی کی صرف ناپسند عادت پر نظر نہ رکھی جائے۔
- پسندیدہ خوبی کو دیکھنا رشتے میں نرمی پیدا کر سکتا ہے۔
- گھریلو تعلق میں دشمنی کے بجائے برداشت بہتر ہے۔
