صحیح مسلم حدیث ۳۶۵۰ - عورت پسلی کی مانند ہے
عورت پسلی کی مانند ہے: بیوی کے ساتھ نرمی کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۶۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۵۰
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ كَالضِّلَعِ إِذَا ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا ، وَإِنْ تَرَكْتَهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت پسلی کی مانند ہے اگر تو اس کو سیدھا کرنا چاہے تو توڑ ڈالے گا اور اگر چھوڑ دے تو تیرا کام نکلے اور وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۶۵۰ کا خلاصہ
عورت پسلی کی مانند ہے حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہر کو سمجھایا کہ اگر وہ اسے زبردستی سیدھا کرنا چاہے گا تو توڑ ڈالے گا، اور اگر چھوڑ دے تو اس سے فائدہ اٹھائے گا جبکہ اس میں ٹیڑھا پن باقی رہے گا۔ یہ بات ازدواجی زندگی کے لیے بہت عملی ہے۔ ہر انسان کی طبیعت الگ ہوتی ہے۔ بیوی میں بھی کچھ باتیں شوہر کو آسان لگتی ہیں اور کچھ مشکل۔ حدیث کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ سختی سے ہر چیز بدلنے کی کوشش رشتے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ نرمی، برداشت اور سمجھ داری کے ساتھ رہنا بہتر راستہ ہے۔ بیوی کے ساتھ نرمی کی حدیث گھر کے ماحول کو سنبھالنے، غصے کو کم کرنے اور طلاق تک پہنچنے والی سختی سے بچنے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیوی کے ساتھ سختی سے معاملہ کرنا نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
- ازدواجی زندگی میں ہر عادت کو زبردستی بدلنا درست انداز نہیں۔
- نرمی اور برداشت کے ساتھ فائدہ مند زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
- حدیث میں پسلی کی مثال کے ذریعے سمجھ داری سکھائی گئی ہے۔
