صحیح مسلم حدیث ۳۶۵۱ - پسلی والی حدیث کی دوسری سند
پسلی والی حدیث کی دوسری سند: ازدواجی نرمی کا سبق
صحیح مسلم : ۳۶۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۵۱
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، مِثْلَهُ سَوَاءً .
اس سند سے بھی مندرجہ بالا حدیث مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۵۱ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے جو عورت کے پسلی کی مانند ہونے کے بارے میں آیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بیوی کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے سختی اور ضد سے بچنا چاہیے۔ حدیث کے مضمون میں یہ سمجھایا گیا کہ اگر آدمی زبردستی سیدھا کرنے کی کوشش کرے گا تو توڑ دے گا، اور اگر چھوڑ دے تو اس سے فائدہ اٹھائے گا جبکہ اس میں ٹیڑھا پن باقی رہے گا۔ یہاں مقصد بیوی کو عیب لگانا نہیں، بلکہ شوہر کو عملی انداز سکھانا ہے کہ گھر میں نرمی، برداشت اور سمجھ داری سے کام لے۔ ازدواجی نرمی کی حدیث بار بار مختلف سندوں سے آنا اس مضمون کو یاد رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ رشتہ چلانے کے لیے صرف مطالبہ کافی نہیں، بلکہ صبر اور اچھا رویہ بھی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلے مضمون کی تائید دوسری سند سے کرتی ہے۔
- بیوی کے ساتھ سختی کے بجائے نرمی اختیار کرنی چاہیے۔
- گھر کے معاملے میں ضد رشتے کو کمزور کر سکتی ہے۔
- ازدواجی زندگی میں برداشت ایک عملی ضرورت ہے۔
