صحیح مسلم حدیث ۳۶۴۵ - بیوی کی خوبی دیکھنے کی حدیث

بیوی کی خوبی دیکھنے کی حدیث: ناپسند عادت پر دشمنی نہ کرو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۴۵

وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، حدثنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، حدثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ " ، أَوَ قَالَ غَيْرَهُ ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن نہ رکھے کوئی مؤمن مرد کسی مؤمن عورت کو اگر اس میں ایک عادت ناپسند ہو گی تو دوسری پسند بھی ہو گی۔“ یا سوا اس کے اور کچھ فرمایا۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۶۴۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سادہ مگر گہری گھریلو نصیحت فرمائی کہ کوئی مؤمن مرد کسی مؤمن عورت سے دشمنی نہ رکھے۔ اگر اسے اس کی ایک عادت ناپسند ہو تو دوسری عادت پسند بھی ہو سکتی ہے۔ بیوی کی خوبی دیکھنے کی حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ رشتوں میں ایک ہی کمی کو پکڑ کر پورے انسان سے نفرت کرنا درست انداز نہیں۔ انسان میں مختلف عادتیں ہوتی ہیں۔ کچھ پسند آتی ہیں، کچھ ناگوار لگتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ اس طرف دلائی کہ ناپسند بات کے ساتھ پسندیدہ بات بھی دیکھی جائے۔ یہ حدیث ازدواجی برداشت، انصاف اور نرم مزاجی کا سبق دیتی ہے۔ اس سے گھر میں غصہ کم اور سمجھ بوجھ زیادہ ہو سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیوی کی ایک ناپسند عادت کی وجہ سے مکمل نفرت نہ کی جائے۔
  • انسان کی خوبیوں کو بھی دیکھا جائے، صرف کمیوں کو نہیں۔
  • ازدواجی زندگی میں انصاف اور برداشت کی ضرورت ہے۔
  • مؤمن مرد اور مؤمن عورت کے تعلق میں دشمنی کا رویہ مناسب نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں