صحیح مسلم حدیث ۳۶۷۲ - طلاقِ حیض کی روایت میں سندی وضاحت
طلاقِ حیض کی حدیث: سند اور راوی کے نام کی وضاحت
صحیح مسلم : ۳۶۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۷۲
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عُرْوَةَ ، يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَجَّاجٍ ، وَفِيهِ بَعْضُ الزِّيَادَةِ ، قَالَ مُسْلِم : أَخْطَأَ حَيْثُ قَالَ عُرْوَةَ : إِنَّمَا هُوَ مَوْلَى عَزَّةَ .
ایک اور سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث آئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۷۲ کا خلاصہ
یہ حدیث اسی قصے کی ایک اور سند بیان کرتی ہے، جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حیض میں طلاق کے بارے میں سوال ہوا تھا۔ روایت کے آخر میں امام مسلم رحمہ اللہ نے ایک نام کی اصلاح بھی ذکر کی کہ راوی کے بارے میں عروہ کہنا غلط ہے، اصل میں وہ عزہ کے مولیٰ تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نقل کرنے میں صرف متن ہی نہیں، بلکہ سند اور راویوں کے نام بھی بہت احتیاط سے دیکھے جاتے ہیں۔ اس روایت کا مرکزی موضوع طلاقِ حیض کا واقعہ ہے، مگر اس کے ساتھ حدیث کی علمی امانت بھی سامنے آتی ہے۔ نکاح اور طلاق جیسے نازک مسئلے میں درست روایت کو پہچاننا بہت ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں راوی کے نام کی درستگی بھی اہم ہے۔
- یہ روایت طلاقِ حیض والے واقعے کی ایک اور سند ہے۔
- امام مسلم رحمہ اللہ نے سندی غلطی کی نشاندہی کی۔
- دینی مسائل میں درست نقل اور احتیاط ضروری ہے۔
