صحیح مسلم حدیث ۳۶۸ - امانت کے اٹھنے والی روایت کی تائید
امانت کے اٹھنے کی تائیدی روایت
صحیح مسلم : ۳۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۸
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
مختلف اسناد سے اعمش کی روایت گزشتہ روایت کے مثل ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۸ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مثل ہے، یعنی امانت کے دلوں میں اترنے اور پھر اٹھ جانے کا مضمون مختلف اسناد سے نقل ہوا۔ اس میں اصل پیغام امانت داری، ایمان اور لین دین کی صفائی سے متعلق ہے۔ حدیث کے مطابق ایک زمانہ ایسا بھی آ سکتا ہے جب لوگ خرید و فروخت کریں گے، مگر امانت ادا کرنے والے کم ہوں گے۔ لوگ کسی شخص کو چالاک، سمجھدار یا خوش مزاج کہیں گے، مگر دل کی اصل حالت کمزور ہو سکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف ظاہری تعریف کافی نہیں؛ امانت کا معیار دل، عمل اور وعدے کی پابندی سے بنتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں اپنے معاملات میں سچائی، دیانت اور امانت کو بچانے کی یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امانت ایمان سے جڑی ہوئی صفت ہے۔
- لین دین میں دیانت بہت ضروری ہے۔
- ظاہری ذہانت امانت کا بدل نہیں بن سکتی۔
- دل کی اصلاح کے بغیر معاملات کمزور ہو سکتے ہیں۔
