صحیح مسلم حدیث ۳۶۸۲ - ازواج مطہرات سے اجازت کا ادب
اجازت کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کا گھریلو ادب
صحیح مسلم : ۳۶۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۸۲
حدثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حدثنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُنَا إِذَا كَانَ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ مَا نَزَلَتْ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51 " ، فقَالَت لَهَا مُعَاذَةُ : فَمَا كُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَكِ ، قَالَت : كُنْتُ أَقُولُ إِنْ كَانَ ذَاكَ إِلَيَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِي ،
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اجازت مانگا کرتے تھے جب کسی عورت کی باری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیا کرتے تھے ہم میں سے بعد اس کے یہ آیت اتری «تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ» (۳۳-الأحزاب: ۵۱) یعنی ”الگ رکھے تو ان سے جس کو چاہے“ تو معاذہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ کیا جواب دیتی تھیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے اجازت چاہتے تھے انہوں نے کہا کہ میں کہتی تھی: اگر میرا اختیار ہوتا تو اپنی ذات پر کسی کو مقدم نہ رکھتی۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۸۲ کا خلاصہ
یہ حدیث اجازت کی حدیث کے طور پر گھریلو ادب کا ایک خوبصورت پہلو دکھاتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب کسی زوجہ کی باری میں ہوتے تو اجازت لیا کرتے تھے۔ پھر آیت نازل ہوئی جس میں آپ صلى الله عليه وسلم کو اختیار دیا گیا کہ جسے چاہیں مؤخر کریں اور جسے چاہیں اپنے پاس رکھیں۔ معاذہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم آپ سے اجازت چاہتے تو آپ کیا کہتیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر اختیار میرے پاس ہوتا تو میں اپنی ذات پر کسی کو ترجیح نہ دیتی۔ اس سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی صلى الله عليه وسلم سے محبت بھی ظاہر ہوتی ہے اور یہ بھی کہ گھر کے معاملات میں اجازت اور دل کی رعایت بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر کے معاملات میں اجازت لینا اچھے اخلاق میں شامل ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم ازواج مطہرات کے جذبات کا خیال رکھتے تھے۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت صاف اور بے ساختہ تھی۔
- باری اور اجازت کے معاملے میں نرمی کا پہلو نمایاں ہے۔
