صحیح مسلم حدیث ۳۶۸۱ - اللہ، رسول اور آخرت کا انتخاب
تخییر کی حدیث: اللہ، رسول صلى الله عليه وسلم اور آخرت کا انتخاب
صحیح مسلم : ۳۶۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۸۱
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حدثنا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ : أَخْبَرَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَت : لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي ، فقَالَ : " إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا ، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ ، قَالَت : قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ ، قَالَت : ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا { 28 } وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا { 29 } سورة الأحزاب آية 28-29 ، قَالَت : فَقُلْتُ : فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ ، فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ ، قَالَت : ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ " .
عائشہ روایت:
جب حکم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ اپنی بیبیوں کو اختیار دے دو کہ وہ دنیا چاہیں تو دنیا لیں اور آخرت چاہیں تو آخرت لیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مجھ سے اس کو بیان کرنا شروع کیا۔ اور فرمایا: کہ ”میں تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں اور تم اس کے جواب میں جلدی نہ کرنا جب تک مشورہ نہ لے لینا اپنے ماں باپ سے۔“اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانا تھا کہ میرے ماں باپ کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑنے کا مجھے حکم نہ دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:کہ ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا ٭ وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّـهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا» (۳۳-الأحزاب: ۲۸-۲۹) یعنی ”اے نبی! کہہ دو تم اپنی بیبیوں سے کہ اگر وہ دنیا اور اس کی زینت چاہیں تو آؤ میں تم کو برخورداری دوں اور اچھی طرح سے تم کو رخصت کر دوں اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی رضامندی چاہو اور اس کے رسول کی اور آخرت کا گھر چاہو تو بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نیک بختوں کے لیے بہت بڑا ثواب تیار کیا ہے۔“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اس میں کون سی بات ایسی ہے جس کے لیے میں مشورہ لوں اپنے ماں باپ سے میں چاہتی ہوں اللہ کو اور اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر کو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں نے ایسا ہی کیا جیسا میں نے کیا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۸۱ کا خلاصہ
یہ حدیث تخییر کی حدیث کے طور پر بہت اہم ہے۔ اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنی ازواج مطہرات کو اختیار دیں۔ ایک طرف دنیا اور اس کی زینت تھی، دوسری طرف اللہ، اس کے رسول صلى الله عليه وسلم اور آخرت کا گھر۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے بات نرمی سے شروع کی اور فرمایا کہ جلدی جواب نہ دینا، پہلے اپنے والدین سے مشورہ کر لینا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صاف عرض کیا کہ اس معاملے میں مشورہ کی کیا ضرورت ہے، میں اللہ، اس کے رسول صلى الله عليه وسلم اور آخرت کو چاہتی ہوں۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مومن کے دل میں دنیا کی کشش سے بڑھ کر اللہ کی رضا اور آخرت کی فکر ہونی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہم فیصلہ کرتے وقت جلد بازی سے بچنا بہتر ہے۔
- دنیا کی زینت عارضی ہے، آخرت کا انتخاب زیادہ بہتر ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے بات سمجھانے میں نرمی اور خیر خواہی اختیار فرمائی۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ، رسول صلى الله عليه وسلم اور آخرت کو پسند کیا۔
