صحیح مسلم حدیث ۳۶۸۴ - تخییر کو طلاق نہ سمجھنا
تخییر طلاق نہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت
صحیح مسلم : ۳۶۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۸۴
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنا عَبْثَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَت عَائِشَةُ : " قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ نَعُدَّهُ طَلَاقًا " .
عائشہ روایت:
ہم نے اختیار کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو اختیار دیا تھا پھر ہم نے اس کو طلاق نہیں سمجھا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۸۴ کا خلاصہ
یہ حدیث تخییر اور طلاق کے مسئلے کو بہت مختصر مگر صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو اختیار دیا، یعنی انہیں فیصلہ کرنے کا موقع دیا گیا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہی کو اختیار کیا، اور اسے طلاق نہیں سمجھا گیا۔ اس روایت کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ صرف اختیار دینا، جب بیوی شوہر ہی کو منتخب کرے، خود بخود طلاق نہیں بنتا۔ یہاں بات اسی واقعے تک محدود ہے جو حدیث میں آیا ہے۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے یہی سمجھنا چاہیے کہ ازواج مطہرات نے نبی صلى الله عليه وسلم کو اختیار کیا اور اس اختیار کو طلاق شمار نہیں کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تخییر کا نتیجہ انتخاب کے جواب سے متعلق ہے۔
- ازواج مطہرات نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو اختیار کیا۔
- اس واقعے میں تخییر کو طلاق شمار نہیں کیا گیا۔
- دینی مسئلہ سمجھنے میں اصل روایت کے الفاظ پر قائم رہنا چاہیے۔
