صحیح مسلم حدیث ۳۶۸۷ - ہم نے نبی صلى الله عليه وسلم کو اختیار کیا
ہم نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو اختیار کیا: تخییر اور طلاق
صحیح مسلم : ۳۶۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۸۷
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، وَإِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعُدَّهُ طَلَاقًا " .
مضمون وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہمیں اختیار دیا، پھر ہم نے آپ صلى الله عليه وسلم کو اختیار کیا، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے طلاق شمار نہیں کیا۔ یہ الفاظ تخییر کی حدیث کو نہایت واضح بنا دیتے ہیں۔ یہاں اصل بات انتخاب کی ہے: جب ازواج مطہرات کے سامنے اختیار رکھا گیا تو انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو منتخب کیا۔ اس انتخاب کے بعد طلاق کا حکم نہیں لگایا گیا۔ عام قاری کے لیے اس حدیث کا آسان پیغام یہ ہے کہ دین کے مسائل میں ظاہری بات سے آگے بڑھ کر جلدی نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے۔ صحیح بات وہی ہے جو روایت میں صاف طور پر بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ازواج مطہرات نے نبی صلى الله عليه وسلم کو اختیار کیا۔
- اس انتخاب کو طلاق شمار نہیں کیا گیا۔
- روایت کے صاف الفاظ مسئلے کو سمجھانے کے لیے کافی ہیں۔
- دینی بات میں جلدی نتیجہ نکالنے سے بچنا چاہیے۔
