صحیح مسلم حدیث ۳۶۸۸ - اختیار کا طلاق میں شمار نہ ہونا
تخییر کا مسئلہ: طلاق میں کچھ شمار نہ ہوا
صحیح مسلم : ۳۶۸۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۶۸۸
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنا : وقَالَ الْآخَرَانِ : حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعْدُدْهَا عَلَيْنَا شَيْئًا " .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۶۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہی مضمون ایک اور سند سے نقل ہوا ہے۔ الفاظ کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہمیں اختیار دیا، ہم نے آپ صلى الله عليه وسلم کو اختیار کیا، پھر اسے ہمارے خلاف کچھ شمار نہیں کیا گیا۔ اس روایت کا مرکزی موضوع تخییر اور طلاق ہے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ حدیث خود بتا رہی ہے کہ انتخاب نبی صلى الله عليه وسلم کے حق میں ہوا اور اس کے بعد طلاق یا جدائی کا معاملہ نہیں بنا۔ اس طرح کی روایات عام آدمی کو یہ سبق دیتی ہیں کہ کسی شرعی معاملے کو سمجھنے کے لیے اہل روایت کے بیان کو سامنے رکھا جائے، اپنی طرف سے اضافہ نہ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کو اختیار کرنے کے بعد کچھ طلاق شمار نہ ہوا۔
- ایک مضمون کئی سندوں سے آ سکتا ہے۔
- شرعی مسئلے میں اصل الفاظ سے رہنمائی لینی چاہیے۔
