صحیح مسلم حدیث ۳۷۰ - فتنوں والی روایت کی دوسری سند
فتنوں کے اثرات: تائیدی روایت
صحیح مسلم : ۳۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۰
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ حُذَيْفَةُ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ جَلَسَ فَحَدَّثَنَا ، فَقَالَ : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمْسِ ، لَمَّا جَلَسْتُ إِلَيْهِ سَأَلَ أَصْحَابَهُ : أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي خَالِدٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ تَفْسِيرَ أَبِي مَالِكٍ لِقَوْلِهِ : مُرْبَادًّا مُجَخِّيًا .
ربعی بن حراش روایت:
جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے آئے تو بیٹھے ہم سے حدیثیں بیان کرتے انہوں نے کہا: کل امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے جب میں ان کے پاس بیٹھا، آپ نے لوگوں سے پوچھا: تم میں کس کو یاد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد فتنوں کے باب میں؟ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری اس میں «مُرْبَادًّا» اور «مُجَخِّيًا» کی تفسیر نہیں ہے جیسے اوپر کی روایت میں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۰ کا خلاصہ
یہ روایت اسی فتنوں والی حدیث کا دوسرا بیان ہے۔ اس میں ربعی بن حراش نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون نقل کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بارے میں پوچھا۔ اصل بات یہ ہے کہ فتنے دلوں کے سامنے آتے ہیں، پھر دل کا ردعمل اس پر اثر ڈالتا ہے۔ جو دل فتنہ قبول کرتا ہے، اس میں تاریکی کا نشان آتا ہے، اور جو اسے رد کرتا ہے، اس میں سفیدی کا نشان آتا ہے۔ اس روایت میں کچھ الفاظ کی تشریح نہیں آئی، مگر مرکزی پیغام وہی ہے: دل کو فتنوں، خواہش اور برائی کی قبولیت سے بچانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتنے دلوں پر اثر ڈالتے ہیں۔
- برائی کو قبول کرنا دل کو سیاہ کر سکتا ہے۔
- فتنے کو رد کرنا دل کی صفائی کا سبب بنتا ہے۔
- خواہش کے پیچھے چلنا نیکی اور برائی کی پہچان کمزور کر دیتا ہے۔
