صحیح مسلم حدیث ۳۷۰۰ - تین طلاق، عدت اور نکاح
تین طلاق کے بعد عدت: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۷۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۰۰
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حدثنا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ ، أَخْبَرَتْهُ : أَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْيَمَنِ ، فقَالَ لَهَا أَهْلُهُ : لَيْسَ لَكِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ ، فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي نَفَرٍ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ ، فقَالُوا : إِنَّ أَبَا حَفْصٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا ، فَهَلْ لَهَا مِنْ نَفَقَةٍ ؟ فقَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ " ، وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنْ لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ ، وَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَأْتِيهَا الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ ، فَانْطَلِقِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى ، فَإِنَّكِ إِذَا وَضَعْتِ خِمَارَكِ لَمْ يَرَكِ ، فَانْطَلَقَتْ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا أَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ،
فاطمہ بنت قیس روایت:
ابوحفص نے ان کو تین طلاق دیں اور وہ یمن کو چلا گیا اور اس کے لوگوں نے فاطمہ سے کہا کہ تیرے لیے ہمارے اوپر نفقہ نہیں اور خالد چند لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اور عرض کی کہ ابوحفص نے تین طلاق دیں سو کیا اس کی عورت کو نفقہ ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو نفقہ نہیں ہے اور اس پر عدت واجب ہے۔“ اور اس کو کہلا بھیجا کہ تم اپنے نکاح میں بغیر میری صلاح کے سبقت نہ کرنا اور حکم دیا ان کو کہ ام شریک کے گھر آ جائے، پھر کہلا بھیجا کہ ”ام شریک کے گھر مہاجرین اولین جمع ہوتے ہیں سو تم ابن ام مکتوم نابینا کے گھر جاؤ کہ اگر تم وہاں اپنا دوپٹہ اتار دو گی تو کوئی تم کو نہ دیکھے گا۔“ سو وہ اس گھر میں چلی گئی پھر جب ان کی عدت ہو چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے بیاہ دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوحفص نے انہیں تین طلاقیں دیں اور یمن چلے گئے۔ ان کے گھر والوں نے کہا کہ ہمارے ذمہ تمہارا نفقہ نہیں۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چند لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ کیا اس عورت کے لیے نفقہ ہے؟ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اس کے لیے نفقہ نہیں، اور اس پر عدت ہے۔ پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ام شریک کے گھر جانے کا حکم ہوا، لیکن بعد میں بتایا گیا کہ وہاں مہاجرین اولین آتے ہیں، اس لیے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر جاؤ۔ عدت پوری ہونے کے بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کا نکاح اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تین طلاق کے بعد اس واقعے میں نفقہ نہ ہونے کا حکم آیا۔
- عدت لازم بتائی گئی اور اس کی جگہ کا خیال رکھا گیا۔
- پردے اور سہولت کے پیش نظر ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا گھر منتخب ہوا۔
- عدت کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اسامہ رضی اللہ عنہ سے کرایا۔
