صحیح مسلم حدیث ۳۷۱۲ - عدت کے بعد نکاح کے مشورے کا واقعہ

عدت کے بعد نکاح: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا مشورہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۱۲

وَحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا وَكِيعٌ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، تَقُولُ : إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا ، " فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى ، وَلَا نَفَقَةً ، قَالَت : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا حَلَلْتِ ، فَآذِنِينِي ، فَآذَنْتُهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ ، وَأَبُو جَهْمٍ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا مُعَاوِيَةُ ، فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ ، وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ ، فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ ، وَلَكِنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ " ، فقَالَت : بِيَدِهَا هَكَذَا أُسَامَةُ أُسَامَةُ ، فقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ " ، قَالَت : فَتَزَوَّجْتُهُ ، فَاغْتَبَطْتُ .

فاطمہ بنت قیس روایت:

فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں تھیں کہ ان کے شوہر نے تین طلاقیں دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اسے گھر دلوایا، نہ خرچ اور کہا فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ جب تمہاری عدت پوری ہو جائے تو مجھے خبر دینا۔“تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اور مجھے پیغام دیا معاویہ اور ابوجہم نے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ ”معاویہ تو مفلس ہے کہ اس کے پاس مال نہیں اور ابوجہم عورتوں کو بہت مارنے والا ہے مگر اسامہ۔“ سو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اسامہ، اسامہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:کہ ”اللہ تعالیٰ اور رسول کی فرمانبرداری تجھے بہتر ہے۔“ پھر میں نے ان سے نکاح کیا اور عورتیں مجھ پر رشک کرنے لگیں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۷۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا واقعہ طلاق کے بعد آگے بڑھتا ہے۔ پہلے بیان ہوتا ہے کہ ان کے شوہر نے تین طلاقیں دیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے نہ سکنیٰ مقرر کی نہ نفقہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب عدت پوری ہو جائے تو مجھے خبر دینا۔ عدت کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہا کو معاویہ، ابو جہم اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کے پیغام آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ کے بارے میں فرمایا کہ ان کے پاس مال نہیں، ابو جہم کے بارے میں فرمایا کہ وہ عورتوں کو بہت مارنے والے ہیں، اور اسامہ رضی اللہ عنہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ابتدا میں اسامہ کا نام پسند نہ آیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تمہارے لیے بہتر ہے۔ پھر انہوں نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عدت مکمل ہونے کے بعد نکاح کے معاملے میں مشورہ لیا گیا۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتوں کے بارے میں صاف اور خیرخواہانہ بات فرمائی۔
  • فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کو اختیار کیا۔
  • روایت میں مال، مزاج اور عورتوں کے ساتھ برتاؤ کا ذکر رشتے کے مشورے میں آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں