صحیح مسلم حدیث ۳۷۱۷ - سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اعتراض
فاطمہ بنت قیس کی روایت کو دلیل بنانے پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب
صحیح مسلم : ۳۷۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۱۷
وحدثنا وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : تَزَوَّجَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ ، فَطَلَّقَهَا فَأَخْرَجَهَا مِنْ عَنْدِهِ ، فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ عُرْوَةُ ، فقَالُوا : إِنَّ فَاطِمَةَ قَدْ خَرَجَتْ ، قَالَ عُرْوَةُ : فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ ، فقَالَت : " مَا لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ خَيْرٌ فِي أَنْ تَذْكُرَ هَذَا الْحَدِيثَ " .
ہشام روایت:
یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمٰن کی بیٹی سے نکاح کیا اور اس کو طلاق دے کر گھر سے نکال دیا اور عروہ نے اس بات پر انہیں الزام دیا تو لوگوں نے کہا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی تو بعد طلاق کے شوہر کے گھر سے نکل گئی تھیں۔ سو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور میں نے ان کو خبر دی انہوں نے کہا کہ فاطمہ کو اس حدیث کا بیان کرنا اچھا نہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ہشام اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید بن العاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی سے نکاح کیا، پھر اسے طلاق دے کر اپنے گھر سے نکال دیا۔ عروہ نے اس عمل پر اعتراض کیا۔ لوگوں نے جواب میں کہا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بھی طلاق کے بعد شوہر کے گھر سے نکلی تھیں۔ عروہ یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے گئے، تو انہوں نے فرمایا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے لیے اس حدیث کو بیان کرنے میں خیر نہیں۔ یہاں اصل موضوع طلاق کے بعد گھر سے نکالنے کا عمل اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو بطور دلیل استعمال کرنے پر اعتراض ہے۔ متن میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انداز واضح ہے کہ وہ اس واقعے کو عام اجازت کے طور پر لینے سے راضی نہیں تھیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طلاق کے بعد عورت کو گھر سے نکالنے کے عمل پر عروہ نے اعتراض کیا۔
- لوگوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے واقعے کو دلیل کے طور پر پیش کیا۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس دلیل کے استعمال کو پسند نہیں فرمایا۔
