صحیح مسلم حدیث ۳۷۱۹ - لا سکنیٰ ولا نفقہ کے ذکر پر تنبیہ

لا سکنیٰ ولا نفقہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۱۹

وَحدثنا وَحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَت : " مَا لِفَاطِمَةَ خَيْرٌ أَنْ تَذْكُرَ هَذَا " ، قَالَ : تَعْنِي قَوْلَهَا : لَا سُكْنَى ، وَلَا نَفَقَةَ .

عائشہ روایت:

فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کہنا خوب نہیں ہے کہ مطلقہ ثلاثہ کو نہ مکان ہے نہ نفقہ۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۷۱۹ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مختصر مگر اہم قول ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے یہ بات کہنا اچھا نہیں کہ مطلقہ ثلاثہ کو نہ مکان ہے نہ نفقہ۔ راوی نے وضاحت کی کہ اس سے مراد فاطمہ رضی اللہ عنہا کا قول ’’لا سکنیٰ ولا نفقہ‘‘ ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی روایت پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اعتراض ہے۔ یہاں ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ طلاق کے بعد مکان اور خرچ کے مسئلے پر ایک ہی واقعے کو سب کے لیے عام انداز میں بیان کرنے پر اختلاف تھا۔ آسان زبان میں، یہ روایت ہمیں صرف اتنا بتاتی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس جملے کے ذکر کو پسند نہیں کرتیں تھیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے لا سکنیٰ ولا نفقہ کے ذکر پر اعتراض کیا۔
  • روایت میں مطلقہ ثلاثہ کے مکان اور نفقہ کا مسئلہ زیر بحث ہے۔
  • متن میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے قول کی مراد بھی واضح کی گئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں