صحیح مسلم حدیث ۳۷۳۵ - عورت کے سوگ کی حد
عورت کے سوگ کی حد: تین دن سے زیادہ نہیں مگر شوہر پر
صحیح مسلم : ۳۷۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۳۵
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْح ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ ، حَدَّثَتْهُ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَوْ عَنْ عَائِشَةَ ، أَوْ عَنْ كِلْتَيْهِمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَوْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا " ،
ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، یا دونوں سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں حلال ہے اس کو جو ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر یا ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر، سوگ کرنا کسی مردے پر تین دن سے زیادہ البتہ عورت اپنے خاوند پر کر سکتی ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۷۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل ہوا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، یا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا حلال نہیں، مگر اپنے شوہر پر۔ اس روایت میں شوہر کے لیے مدت تفصیل سے نہیں آئی، لیکن اسی باب کی دوسری روایتوں میں چار مہینے دس دن کا ذکر موجود ہے۔ اس متن کی اصل بات یہ ہے کہ عام میت پر سوگ کی حد تین دن ہے۔ اس سے غم کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ سوگ کی ایک شرعی حد بتائی جاتی ہے۔ مسلمان عورت کو غم کے وقت بھی اس حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عام میت پر سوگ تین دن سے زیادہ نہیں کیا جائے گا۔
- شوہر کے لیے سوگ کا حکم الگ ہے۔
- ایمان کا تقاضا ہے کہ غم میں بھی شرعی حد مانی جائے۔
- حدیث کے الفاظ میں جو بات آئی ہے اسی پر اعتماد کرنا چاہیے۔
