صحیح مسلم حدیث ۳۷۳۹ - تین دن سے زیادہ سوگ نہیں
تین دن سے زیادہ سوگ نہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۷۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۳۹
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وزُهَّيرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو عورت یقین رکھتی ہے اللہ تعالیٰ اور قیامت کا اس کو حلال نہیں ہے کسی مردے کا سوگ کرنا تین دن سے زیادہ سوا اپنے خاوند کے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۷۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل ہوا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے کسی میت کا سوگ تین دن سے زیادہ کرنا حلال نہیں، سوائے اپنے شوہر کے۔ یہ مختصر مگر بہت واضح حدیث ہے۔ اس میں عام میت پر سوگ کی حد بتائی گئی ہے، اور شوہر کو اس سے الگ کیا گیا ہے۔ اس حدیث سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ غم محسوس کرنا اور سوگ کی مخصوص مدت رکھنا دو الگ باتیں ہیں۔ دین نے سوگ کے لیے حد مقرر کی تاکہ انسان غم میں بھی حد سے آگے نہ بڑھے۔ شوہر کے لیے مدت دوسری روایات میں چار مہینے دس دن آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عام میت پر سوگ تین دن سے زیادہ نہیں کیا جائے گا۔
- شوہر کے سوگ کا حکم عام میت سے الگ ہے۔
- ایمان والی عورت کو سوگ کی شرعی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
- غم میں بھی دینی رہنمائی کو سامنے رکھنا چاہیے۔
