صحیح مسلم حدیث ۳۷۸۷ - ولاء کی شرط نیکی سے نہ روکے
ولاء کی شرط کے باوجود نیکی کا کام جاری رکھنا
صحیح مسلم : ۳۷۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۸۷
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا ، فَأَبَى أَهْلُهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْوَلَاءُ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
ابوہریرہ روایت:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارادہ کیا ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا اس کے مالکوں نے نہ مانا مگر اس شرط سے قبول کیا کہ ولاء ان کو ملے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے ارادے سے باز نہ آ اور ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۷۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنا چاہتی تھیں۔ اس کے گھر والوں نے یہ شرط رکھی کہ ولاء ان ہی کو ملے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شرط تمہیں نہ روکے، کیونکہ ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔ اس روایت میں اصل زور دو باتوں پر ہے: ایک نیکی کا ارادہ، یعنی کسی غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا؛ دوسری ولاء کا صحیح حق۔ اگر کوئی غیر درست شرط لگا دے تو اس سے اصل حکم نہیں بدلتا۔ حدیث کی زبان بہت صاف ہے: نیکی کے کام میں رکاوٹ نہ بناؤ، اور ولاء کو آزاد کرنے والے کے حق کے طور پر سمجھو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیکی کے ارادے کو غیر درست شرط کی وجہ سے چھوڑنا لازم نہیں تھا۔
- ولاء اسی کا حق ہے جو آزادی دلائے۔
- مسئلہ پیش آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی لی گئی۔
- حدیث میں غلام آزاد کرنے کی نیکی کا عملی پہلو بھی سامنے آتا ہے۔
