صحیح مسلم حدیث ۳۷۸۶ - بریرہ رضی اللہ عنہا سے معلوم ہونے والی تین سنتیں

بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کی تین سنتیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۸۶

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ ، خُيِّرَتْ عَلَى زَوْجِهَا حِينَ عَتَقَتْ ، وَأُهْدِيَ لَهَا لَحْمٌ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ ، فَدَعَا بِطَعَامٍ ، فَأُتِيَ بِخُبْزٍ وَأُدُمٍ مِنْ أُدُمِ الْبَيْتِ ، فَقَالَ : " أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً عَلَى النَّارِ فِيهَا لَحْمٌ ؟ " ، فَقَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُطْعِمَكَ مِنْهُ ، فَقَالَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ مِنْهَا لَنَا هَدِيَّةٌ " ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا : " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .

عائشہ روایت:

بریرہ کی وجہ سے تین باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک تو یہ کہ اس کو اختیار ملا اپنے خاوند کے مقدمہ میں آزاد ہوئی۔ دوسری یہ کہ اس کو گوشت ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور ہانڈی میں گوشت چڑھا تھا آگ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا مانگا۔ تو روٹی اور گھر کا کچھ سالن سامنے لایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت تو ہانڈی چڑھا تھا آگ پر۔“لوگوں نے کہا: بے شک یا رسول اللہ! مگر وہ گوشت صدقہ کا ہے جو بریرہ کو ملا ہے ہم کو برا معلوم ہوا کہ اس میں سے آپ کو کھلا دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور اس کی طرف سے ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ تیسری یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بریرہ کے باب میں کہ”ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۷۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے سبب تین سنتیں معلوم ہوئیں۔ پہلی یہ کہ جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اپنے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا۔ دوسری یہ کہ انہیں گوشت ملا، گھر میں ہانڈی پر گوشت چڑھا تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن لایا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کے بارے میں پوچھا تو عرض کیا گیا کہ وہ بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ان کی طرف سے ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا کہ ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے۔ یہ روایت روزمرہ کھانے، ہدیہ، صدقہ، اور آزادی کے حق کو سادہ انداز میں جوڑ دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • آزاد ہونے والی عورت کو اس روایت میں شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا۔
  • صدقہ مستحق کے پاس آ کر ہدیہ کے طور پر آگے جا سکتا ہے۔
  • ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملتا ہے۔
  • گھر کے کھانے جیسے عام معاملے میں بھی شرعی رہنمائی پوچھی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں