صحیح مسلم حدیث ۳۷۸۵ - بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا غلام ہونا
بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کے بارے میں مختصر روایت
صحیح مسلم : ۳۷۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۸۵
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي هِشَامٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، وأَبُو هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا " .
عائشہ روایت:
بریرہ کا خاوند غلام تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۸۵ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے ایک اہم جز کو صاف کرتی ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا۔ اسی بات کا تعلق اس واقعہ سے ہے جس میں بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئیں اور پھر انہیں اپنے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا۔ اس روایت میں نہ ولاء کی تفصیل ہے، نہ صدقہ اور ہدیہ کا ذکر، بلکہ صرف شوہر کی حالت بیان کی گئی ہے۔ اس لیے اسے پڑھتے وقت بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔ اصل سبق یہ ہے کہ حدیث میں کبھی ایک چھوٹا جملہ بھی کسی بڑے واقعہ کی ایک خاص بات واضح کر دیتا ہے۔ یہاں موضوع بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کی حیثیت ہے، اور یہی بات اس روایت کا مرکز ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا۔
- چھوٹی حدیث بھی کسی واقعہ کی ایک خاص بات واضح کر سکتی ہے۔
- متن سے زیادہ باتیں نکالنے کے بجائے روایت کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
- بریرہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ کئی روایات میں مختلف پہلوؤں سے آیا ہے۔
