صحیح مسلم حدیث ۳۸۰۱ - بیع ملامسہ اور منابذہ سے ممانعت
بیع ملامسہ اور منابذہ: دھوکے والی بیع سے بچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۸۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۰۱
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا بیع ملامسہ سے اور بیع منابذہ سے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع خرید و فروخت میں صاف معاملہ ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بیع ملامسہ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا۔ آسان لفظوں میں یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ سودا ایسا نہ ہو جس میں مال کو اچھی طرح دیکھنے، سمجھنے اور اطمینان کا موقع نہ ملے۔ بیع ملامسہ اور بیع منابذہ جیسے طریقوں میں خریدار یا بیچنے والا صرف چھونے یا پھینکنے کو سودا بناتے تھے، اس لیے معاملہ واضح نہیں رہتا۔ اس حدیث سے صاف بات ملتی ہے کہ اسلامی خرید و فروخت میں دھوکے والی بیع، مبہم سودا اور جلد بازی سے بچنا چاہیے۔ لین دین میں نرمی، وضاحت اور باہمی سمجھ ضروری ہے، کیونکہ حدیث میں منع اسی قسم کے غیر واضح طریقے سے آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خرید و فروخت میں مال کو دیکھے بغیر سودا پکا کرنا درست طریقہ نہیں۔
- بیع ملامسہ اور بیع منابذہ جیسے مبہم طریقوں سے بچنا چاہیے۔
- سودا کرتے وقت دونوں فریقوں کو بات واضح رکھنے کی ضرورت ہے۔
