صحیح مسلم حدیث ۳۸۰۳ - بیع ملامسہ کی مزید سند
بیع ملامسہ کی حدیث: غیر واضح سودے سے ممانعت
صحیح مسلم : ۳۸۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۰۳
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ،
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث روایت کی گئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۰۳ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی حکم کو بیان کرتی ہے جو بیع ملامسہ اور بیع منابذہ کے بارے میں آیا ہے۔ متن میں تفصیل نہیں بڑھائی گئی بلکہ بتایا گیا کہ یہی بات ایک اور سند سے مروی ہے۔ عام فہم انداز میں اس کا پیغام یہ ہے کہ خرید و فروخت میں صرف چھونے یا پھینکنے کو سودا بنانے والی صورت سے بچا جائے۔ جب کوئی چیز دیکھی نہ جائے، سمجھی نہ جائے، یا اس کی حالت معلوم نہ ہو تو بعد میں اختلاف پیدا ہو سکتا ہے۔ اس حدیث میں بیع ملامسہ کی حدیث اور بیع منابذہ کا حکم دونوں ایک ہی باب میں آتے ہیں۔ اس لیے ایک مسلمان کو لین دین کرتے وقت واضح بات، کھلا معاملہ اور سمجھ بوجھ کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں ملامسہ اور منابذہ سے ممانعت دوبارہ نقل ہوئی ہے۔
- سودا کرتے وقت چیز کی حالت کو جاننا ضروری ہے۔
- غیر واضح خرید و فروخت سے بچنا حدیث کے پیغام میں شامل ہے۔
