صحیح مسلم حدیث ۳۸۰۵ - بیع ملامسہ و منابذہ کی آسان تشریح
بیع ملامسہ اور بیع منابذہ کا مطلب آسان اردو میں
صحیح مسلم : ۳۸۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۰۵
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " نُهِيَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ : الْمُلَامَسَةِ ، وَالْمُنَابَذَةِ ، أَمَّا الْمُلَامَسَة ، فَأَنْ يَلْمِسَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَ صَاحِبِهِ بِغَيْرِ تَأَمُّلٍ ، وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَهُ إِلَى الْآخَرِ ، وَلَمْ يَنْظُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا إِلَى ثَوْبِ صَاحِبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
دو بیعوں سے ممانعت ہوئی ہے ایک تو بیع ملامسہ اور دوسری بیع منابذہ۔ بیع ملامسہ یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے کا کپڑا چھو لے بے سوچے سمجھے (اور یہ کپڑا چھونے سے بیع لازم ہو جائے) اور بیع منابذہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینک دے اور کوئی دوسرے کا کپڑا نہ دیکھے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیع ملامسہ اور بیع منابذہ کی وضاحت بھی آ گئی ہے، اس لیے یہ موضوع سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق بیع ملامسہ یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے کا کپڑا بغیر سوچے سمجھے چھو لے اور اسی سے سودا لازم سمجھا جائے۔ بیع منابذہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینک دے اور کوئی دوسرے کا کپڑا نہ دیکھے۔ اس متن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام خرید و فروخت میں دیکھے بغیر، سمجھے بغیر اور واضح رضامندی کے بغیر سودا پکا کرنے کو درست راستہ نہیں بناتا۔ بیع ملامسہ کا مطلب، بیع منابذہ کی شرح اور دھوکے والی بیع جیسے سرچ الفاظ اسی حدیث سے جڑے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سودا کرنے سے پہلے چیز کو دیکھنا اور سمجھنا چاہیے۔
- چھونے یا پھینکنے کو سودا بنا دینا حدیث میں منع آیا ہے۔
- خرید و فروخت میں جلد بازی اور ابہام سے بچنا چاہیے۔
