صحیح مسلم حدیث ۳۸۱۲ - بیع اور پیغام نکاح میں مداخلت سے بچنا

بھائی کی بیع اور پیغام نکاح پر مداخلت نہ کریں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۱۲

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تم میں سے اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیام پر پیام نہ دے مگر اس کی اجازت سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۸۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیام پر پیام نہ دے، مگر اس کی اجازت سے۔ اس متن میں دو باتیں ساتھ آئی ہیں: خرید و فروخت میں دخل نہ دینا، اور نکاح کے پیغام میں بھی بے جا مداخلت نہ کرنا۔ حدیث کا انداز صاف ہے کہ اگر اجازت ہو تو بات الگ ہے، ورنہ دوسرے کے معاملے کا احترام کیا جائے۔ اپنے بھائی کی بیع پر بیع، پیغام نکاح پر پیغام، اور اسلامی معاشرتی آداب جیسے سرچ الفاظ اسی روایت سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ حدیث روزمرہ زندگی میں انصاف اور لحاظ کا عملی سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دوسرے کے سودے میں اجازت کے بغیر مداخلت نہ کی جائے۔
  • پیغام نکاح کے معاملے میں بھی دوسرے کا لحاظ رکھا جائے۔
  • حدیث میں اجازت کو استثنا کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں