صحیح مسلم حدیث ۳۸۱۹ - بازار آنے سے پہلے سامان تجارت سے نہ ملنا
تلقی رکبان کی حدیث: بازار سے پہلے قافلے سے سودا نہ کریں
صحیح مسلم : ۳۸۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۱۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى أَنْ تُتَلَقَّى السِّلَعُ حَتَّى تَبْلُغَ الْأَسْوَاقَ " ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ نُمَيْرٍ ، وقَالَ الْآخَرَانِ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ التَّلَقِّي " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا آگے جا کر اسباب تجارت سے ملنے کا یہاں تک کہ وہ بازار میں آئیں اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا آگے جا کر ملنے سے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے آگے جا کر اسباب تجارت سے ملنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ بازار میں آئیں۔ ایک روایت کے لفظ میں آگے جا کر ملنے کی ممانعت آئی ہے۔ اس کا اصل موضوع تلقی رکبان یا تلقی جلب ہے۔ سادہ زبان میں حدیث یہ کہتی ہے کہ مال لانے والوں سے بازار پہنچنے سے پہلے جا کر ایسا معاملہ نہ کیا جائے جس سے صاف بازار کا موقع متاثر ہو۔ متن میں یہی حد بیان ہوئی ہے، اس لیے اس سے باہر تفصیل نہیں بڑھائی جائے گی۔ تلقی رکبان کی حدیث، تجارتی قافلے سے ملنا، اور بازار کے اسلامی اصول اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سامان تجارت لانے والوں سے بازار سے پہلے ملنے سے منع کیا گیا۔
- تجارت میں صاف ماحول اور واضح موقع اہم ہے۔
- بازار تک مال پہنچنے دینا حدیث کے الفاظ میں آیا ہے۔
