صحیح مسلم حدیث ۳۸۱۸ - نجش یعنی بناوٹی بولی سے ممانعت

نجش کی ممانعت: بناوٹی بولی سے بچنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۱۸

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ النَّجْشِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا لاڑیا پن سے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۸۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نجش سے منع فرمایا۔ ترجمے میں اسے لاڑیا پن کہا گیا ہے۔ عام فہم انداز میں، متن کی حد تک بات یہ ہے کہ خرید و فروخت میں ایسا بھاؤ بڑھانا یا ایسا رویہ اختیار کرنا جس سے دوسرے کو غلط تاثر ملے، منع کیا گیا۔ نجش کی حدیث بازار کے اخلاق کا اہم باب ہے، کیونکہ اس کا تعلق قیمت اور خریدار کے فیصلے سے ہے۔ جب کوئی شخص حقیقی خریداری کی نیت کے بغیر قیمت بڑھاتا ہے تو خریدار دھوکے میں آ سکتا ہے۔ اسی لیے نجش کا مطلب، بناوٹی بولی، اور دھوکے والی بیع جیسے سرچ الفاظ اس حدیث کے لیے موزوں ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نجش یعنی لاڑیا پن سے حدیث میں ممانعت آئی ہے۔
  • قیمت کے معاملے میں غلط تاثر دینے سے بچنا چاہیے۔
  • خرید و فروخت میں سچائی اور صاف نیت ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں