صحیح مسلم حدیث ۳۸۳۶ - قبضہ سے پہلے اناج نہ بیچو

قبضہ سے پہلے فروخت کی حدیث: اناج خرید کر کب بیچنا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۳۶

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ .

عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اناج خریدے پھر اس کو نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں ہر چیز کو اسی پر خیال کرتا ہوں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۸۳۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اناج خریدے، وہ اسے نہ بیچے جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں ہر چیز کو اسی پر خیال کرتا ہوں۔ حدیث کا اصل مضمون خرید و فروخت میں قبضہ ہے۔ یعنی محض سودا کر لینا کافی نہیں، مال خریدار کے قبضے میں آنا چاہیے، پھر اسے آگے بیچنے کی بات ہو۔ یہ حدیث اناج کی خرید و فروخت، قبضہ سے پہلے فروخت، اور اسلامی تجارت کے اصول کے نام سے تلاش کی جاتی ہے۔ اس سے معاملہ صاف رہتا ہے کہ جو چیز ابھی ہاتھ میں نہیں آئی، اس کے بارے میں آگے سودا نہ کیا جائے۔ حدیث ہمیں تجارت میں ٹھہراؤ، وضاحت اور عملی قبضے کی اہمیت سمجھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اناج خریدنے کے بعد قبضہ سے پہلے اسے بیچنے سے منع کیا گیا ہے۔
  • سودا کرنے کے بعد مال کا قبضہ حاصل کرنا ضروری مرحلہ ہے۔
  • سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دیگر چیزوں کو بھی اسی کے مشابہ سمجھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں