صحیح مسلم حدیث ۳۸۶ - نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کی ضرورت

ایمان بالرسول کی حدیث: دعوت سننے کے بعد ذمہ داری

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۶

حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ يَهُودِيٌّ ، وَلَا نَصْرَانِيٌّ ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے اس زمانے کا (یعنی میرے وقت اور میرے بعد قیامت تک) کوئی یہودی یا نصرانی (یا اور کوئی دین والا) میرا حال سنے پھر ایمان نہ لائے اس پر جس کو میں دے کر بھیجا گیا ہوں۔ (یعنی قرآن) تو جہنم میں جائے گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ اس امت میں سے کوئی یہودی یا نصرانی آپ کا حال سنے، پھر اس چیز پر ایمان نہ لائے جس کے ساتھ آپ بھیجے گئے ہیں، اور اسی حالت میں مر جائے، تو وہ آگ والوں میں سے ہو گا۔ حدیث کا موضوع ایمان بالرسول ہے۔ اس میں بات صاف ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے پیغام پر ایمان ضروری ہے۔ یہاں خاص طور پر یہودی اور نصرانی کا ذکر آیا ہے، اس لیے شرح بھی اسی حد تک رہے گی۔ یہ حدیث سننے، سمجھنے اور ایمان لانے کی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی عام دعوت کا واضح بیان ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سننے کے بعد ایمان کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔
  • حدیث میں یہودی اور نصرانی کا خاص ذکر کیا گیا ہے۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پیغام پر ایمان کو بنیادی شرط بتایا گیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں