صحیح مسلم حدیث ۳۸۶۱ - بیع میں دھوکا
بیع میں دھوکے سے بچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۸۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۶۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا ، فَكَانَ إِذَا بَايَعَ ، يَقُولُ : لَا خِيَابَةَ .
عبداللہ بن دینار روایت:
عبداللہ بن دینار سے ایسا ہی مروی ہے، مگر اس روایت میں یہ نہیں ہے کہ جب بیچتا تو «لاَ خِيَابَةَ» کہتا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۶۱ کا خلاصہ
یہ حدیث بیع کے باب میں نقل ہوئی ہے اور اس میں راوی بتاتے ہیں کہ عبداللہ بن دینار سے اسی سند کے ساتھ پہلے جیسی روایت مروی ہے، مگر اس نقل میں یہ بات نہیں آئی کہ وہ شخص سودا کرتے وقت «لا خيابة» کہتا تھا۔ اس سے ایک اہم بات سامنے آتی ہے کہ حدیث کو نقل کرتے وقت الفاظ کا فرق بھی امانت کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ بیع میں دھوکا، سودا میں صفائی، اور خرید و فروخت کے آداب جیسے موضوعات اس روایت سے جڑتے ہیں، مگر یہاں خاص طور پر روایت کے الفاظ کے فرق کو سامنے رکھا گیا ہے۔ عام آدمی کے لیے سبق یہ ہے کہ دین کی بات بیان کرتے ہوئے اپنی طرف سے اضافہ نہ کیا جائے، بلکہ جو متن ملا ہے اسی حد تک بات کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث بیان کرتے وقت الفاظ کا فرق بھی صاف بتانا چاہیے۔
- بیع کے معاملات میں دھوکے سے بچنے کا موضوع اہم ہے۔
- دینی بات نقل کرتے ہوئے اپنی طرف سے اضافہ نہ کیا جائے۔
