صحیح مسلم حدیث ۳۸۸۲ - عریہ کا مطلب اور کھجور کی بیع

عریہ کا مطلب: کھجور کے درخت کی بیع کا سادہ بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۸۲

وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : وَالْعَرِيَّةُ : النَّخْلَةُ تُجْعَلُ لِلْقَوْمِ ، فَيَبِيعُونَهَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا .

یحییٰ بن سعید روایت:

یحییٰ بن سعید سے ایسا ہی مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ عریہ وہ درخت ہے کھجور کا جو کسی کو دے دیا جائے پھر وہ اندازہ کر کے اس کے پھلوں کو خشک کھجور کے بدلے بیچ ڈالے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۸۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں عریہ کا مطلب صاف لفظوں میں بتایا گیا ہے۔ عریہ اس کھجور کے درخت کو کہا گیا جو کسی قوم یا لوگوں کے لیے رکھا جائے، پھر وہ اس کے پھل کو اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے بیچ دیں۔ یہاں اصل بات بیع عرایا، کھجور کی خرید و فروخت اور اندازہ کر کے بیع سے متعلق ہے۔ حدیث میں صرف کھجور کے درخت اور اس کے پھل کا ذکر ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی دائرے میں رہنی چاہیے۔ عام فہم انداز میں بات یوں ہے کہ درخت پر لگی کھجور کو اندازے سے دیکھا گیا اور اس کے بدلے خشک کھجور دی گئی۔ اس روایت میں عریہ کی تعریف آئی ہے، کوئی الگ واقعہ یا لمبا حکم بیان نہیں ہوا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عریہ کی تعریف کھجور کے درخت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔
  • اس بیع میں پھل کا اندازہ لگا کر خشک کھجور کے بدلے معاملہ کیا گیا۔
  • حدیث کا مضمون کھجور کے درخت اور اس کے پھل تک محدود ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں