صحیح مسلم حدیث ۳۹ - جھوٹے راوی سے بچنے کا اصول
حدیث میں جھوٹے راوی کی پہچان
صحیح مسلم : ۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹
وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُعَلًّى الرَّازِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، الَّذِي رَوَى عَنْهُ عَبَّادٌ ، فَأَخْبَرَنِي ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ : كُنْتُ عَلَى بَابِهِ ، وَسُفْيَانُ عِنْدَهُ ، فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَذَّابٌ
فضل بن سہل روایت:
میں نے معلیٰ رازی سے پوچھا محمد بن سعید کا حال جس سے عباد بن کثیر روایت کرتا ہے تو انہوں نے نقل کیا عیسیٰ بن یونس سے۔ انہوں نے کہا: میں عباد کے دروازہ پر تھا اور سفیان اس کے پاس تھا جب وہ باہر نکلے تو میں نے پوچھا ان سے عباد کے متعلق۔ سفیان نے کہا: وہ جھوٹا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹ کا خلاصہ
اس روایت میں فضل بن سہل نے معلیٰ رازی سے محمد بن سعید کے بارے میں پوچھا، جس سے عباد بن کثیر روایت کرتا تھا۔ عیسیٰ بن یونس کے واسطے سے نقل ہوا کہ سفیان سے عباد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹا ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع کذاب راوی اور حدیث کی حفاظت ہے۔ جب کسی راوی پر جھوٹ کا حکم لگے تو اس کی روایت قبول کرنا دین کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اہل حدیث نے راویوں کے حالات محفوظ کیے، تاکہ صحیح حدیث اور کمزور یا جھوٹی روایت میں فرق کیا جا سکے۔ یہ بات سخت لگ سکتی ہے، مگر حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، اس لیے معیار بھی سخت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھوٹے راوی سے روایت لینے میں سخت احتیاط ضروری ہے۔
- اہل علم راویوں کے بارے میں صاف بات کرتے تھے تاکہ حدیث محفوظ رہے۔
- حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو تو تحقیق زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔
- راوی کا حال معلوم کرنا دینی امانت کا حصہ ہے۔
