صحیح مسلم حدیث ۳۹۰ - عیسیٰ علیہ السلام امام اور عادل حاکم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور عدل والی امامت
صحیح مسلم : ۳۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۰
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ : إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَكَمًا عَدْلًا ، وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ : حَكَمًا عَادِلًا ، وَلَمْ يَذْكُرْ : إِمَامًا مُقْسِطًا ، وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ : حَكَمًا مُقْسِطًا ، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ وَفِي حَدِيثِهِ مِنَ الزِّيَادَةِ : وَحَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ سورة النساء آية 159 الآيَةَ .
زہری سے دوسری روایتیں بھی ایسی ہی ہیں ابن عینیہ کی روایت میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام امام ہوں گے، انصاف کرنے والے اور حاکم ہوں گے عدل کرنے والے، اور یونس کی روایت میں ہے کہ حاکم ہوں گے عدل کرنے والے۔ اور اس میں یہ نہیں ہے کہ امام ہوں گے انصاف کرنے والے، جیسے لیث کی روایت میں ہے اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ایک سجدہ اس زمانے میں ساری دنیا سے بہتر ہو گا۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھو «وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ» ”کوئی ایسا نہیں اہل کتاب میں سے جو ایمان نہ لائے عیسیٰ علیہ السلام پر ان کے مرنے سے پہلے“۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۰ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلی حدیث کے مضمون کو مختلف الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ بعض روایتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے امام مقسط اور حکم عدل کے الفاظ آئے ہیں، اور بعض میں صرف عادل حاکم کا ذکر ہے۔ ایک روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اس زمانے میں ایک سجدہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے، اس سے بہتر ہو گا۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سورۃ النساء کی آیت کا ذکر کیا کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہو گا جو عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے ایمان نہ لائے۔ اس حدیث کا موضوع نزول عیسیٰ علیہ السلام، عدل اور عبادت کی قدر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے عادل حاکم اور امام کے الفاظ روایت میں آئے ہیں۔
- اس زمانے میں سجدے کی بڑی قدر کا ذکر کیا گیا ہے۔
- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس مضمون کے ساتھ قرآن کی آیت بھی پڑھی۔
