صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۶ - بیع میں موجود مال کی شرط
خرید و فروخت میں شرط صاف ہو تو حق بھی صاف رہتا ہے
صحیح مسلم : ۳۹۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۰۶
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۶ کا خلاصہ
یہ روایت اوپر والی حدیث کی تائید میں آئی ہے۔ اس میں بھی یہی بات سمجھ آتی ہے کہ خرید و فروخت میں موجود مال، پھل یا ساتھ والی چیز کے بارے میں شرط طے کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر پیوند شدہ کھجور کا درخت فروخت ہو اور پھل کی شرط نہ ہو تو پھل بیچنے والے کے لیے ہے۔ اسی طرح مالدار غلام کے معاملے میں بھی اصل مال بیچنے والے کا رہتا ہے، جب تک خریدار شرط نہ لگا دے۔ یہاں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ سادہ اصول ہے: بیع میں شرط صاف ہو تو فیصلہ بھی صاف رہتا ہے۔ خرید و فروخت کی حدیث ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ سودا کرتے وقت بات ادھوری نہ چھوڑی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیوند شدہ کھجور کا پھل شرط کے بغیر بائع کا ہے۔
- غلام کے پاس موجود مال بھی شرط نہ ہو تو بیچنے والے کا رہے گا۔
- خرید و فروخت میں ساتھ والی چیزوں کی شرط پہلے طے کرنی چاہیے۔
