صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۷ - خرید میں شرط کا اصول
پیوند شدہ کھجور اور بیع کی شرط کا صاف حکم
صحیح مسلم : ۳۹۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۰۷
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ .
دوسری روایت بھی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسی ہی ہے جیسے اوپر گزری۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۷ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے جو پہلے گزر چکا ہے۔ اس میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے وہی مفہوم نقل ہوا ہے کہ پیوند کے بعد کھجور کی خرید و فروخت میں پھل کا حق شرط کے ساتھ طے ہو سکتا ہے۔ اگر شرط نہ ہو تو پھل بیچنے والے کا رہتا ہے۔ اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ اسلام میں مالی معاملات کو مبہم رکھنے کے بجائے واضح کرنا پسند کیا گیا ہے۔ درخت پر لگی کھجور کی بیع میں خریدار اور بیچنے والے دونوں کو چاہیے کہ پھل کے بارے میں پہلے ہی بات کر لیں۔ اس حدیث کا فائدہ عملی ہے: جو چیز بول کر طے ہو جائے، وہ بعد کے اختلاف کو کم کر دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیوند شدہ کھجور کا پھل شرط نہ ہو تو بیچنے والے کا رہتا ہے۔
- خریدار پھل لینا چاہے تو خرید کے وقت شرط صاف کر لے۔
- بیع میں خاموشی کے بجائے واضح بات کرنا اختلاف کم کرتا ہے۔
