صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۸ - محاقلہ، مزابنہ اور کچے پھل کی بیع

پھل بیچنے کی حدیث: محاقلہ، مزابنہ اور عرایا کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۰۸

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَنْ : الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُخَابَرَةِ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ، وَلَا يُبَاعُ إِلَّا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ ، إِلَّا الْعَرَايَا " .

جابر بن عبداللہ روایت:

منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ سے اور مزابنہ سے اور مخابرہ سے اور پھلوں کی بیع سے جب تک ان کی صلاحیت معلوم نہ ہو اور نہ بیچے جائیں پھل مگر روپیہ یا اشرفی کے بدلے البتہ عرایا کی بیع درست ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۸ کا خلاصہ

یہ حدیث پھل بیچنے کی حدیث کے باب میں کئی زرعی سودوں کا حکم ایک ساتھ بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ اور پھلوں کی بیع سے منع فرمایا جب تک پھل کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا سودا جس میں مقدار، حالت یا حاصل ہونے والی چیز واضح نہ ہو، اختلاف کا سبب بن سکتا ہے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ پھل دینار یا درہم کے بدلے بیچے جائیں، البتہ عرایا کی بیع مستثنیٰ ہے۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ کچے پھل کی بیع اور اندازے والے زرعی سودوں میں احتیاط کی جائے۔ معاملہ اتنا صاف ہو کہ خریدار اور بیچنے والا دونوں جانتے ہوں کہ کیا لیا اور کیا دیا جا رہا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کچے یا غیر واضح پھل کی بیع سے بچنا چاہیے جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو۔
  • محاقلہ، مزابنہ اور مخابرہ جیسے مبہم زرعی سودوں سے ممانعت آئی ہے۔
  • عرایا کا حکم الگ رخصت کے طور پر آیا ہے، اسے عام بیع نہ سمجھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں