صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۹ - کچے پھل کی بیع سے ممانعت
کچے پھل کی بیع اور مبہم زرعی سودوں سے بچنے کا حکم
صحیح مسلم : ۳۹۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۰۹
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۰۹ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث ہی کے معنی کو دہراتی ہے۔ اس میں منع کیے گئے سودوں میں محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ اور پھل کی بیع شامل ہیں، جب تک پھل کی حالت واضح نہ ہو جائے۔ عام آدمی کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ فصل یا پھل کا سودا کرتے وقت صرف امید، اندازہ یا غیر صاف پیمانہ کافی نہیں۔ پھل بیچنے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ خرید و فروخت میں سامنے والی چیز کی حالت معلوم ہونی چاہیے۔ عرایا کی اجازت کا ذکر الگ آیا ہے، اس لیے اس کو عام کچے پھل کی بیع پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔ اس حدیث کا مقصد معاملہ آسان مگر صاف رکھنا ہے، تاکہ بعد میں کسی فریق کو نقصان یا جھگڑے کا سامنا نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کچے یا غیر واضح پھل کی بیع سے بچنا چاہیے جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو۔
- محاقلہ، مزابنہ اور مخابرہ جیسے مبہم زرعی سودوں سے ممانعت آئی ہے۔
- عرایا کا حکم الگ رخصت کے طور پر آیا ہے، اسے عام بیع نہ سمجھا جائے۔
