صحیح مسلم حدیث ۳۹۱۲ - لال یا پیلا ہونے سے پہلے پھل بیچنا
پھل کھانے کے قابل ہو جائے تو بیع کا معاملہ صاف ہوتا ہے
صحیح مسلم : ۳۹۱۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۱۲
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ : الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُخَابَرَةِ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُشْقِحَ " ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعِيدٍ : مَا تُشْقِحُ ؟ قَالَ : تَحْمَارُّ ، وَتَصْفَارُّ ، وَيُؤْكَلُ مِنْهَا .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے اور محاقلہ سے اور مخابرہ سے اور پھلوں کی بیع سے جب تک وہ لال اور پیلے نہ ہوں اور کھانے کے قابل نہ ہو جائیں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۱۲ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی وہی زرعی حکم آیا ہے کہ مزابنہ، محاقلہ، مخابرہ اور پھل کی بیع سے منع کیا گیا، جب تک پھل لال یا پیلا ہو کر کھانے کے قابل نہ ہو جائے۔ سعید سے جب پوچھا گیا کہ اس کا مطلب کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ پھل کا رنگ بدل جائے اور اس میں سے کھایا جا سکے۔ اس سے پھل بیچنے کی حدیث کا مطلب بہت آسان ہو جاتا ہے: پھل کی حالت ایسی ہو کہ اس کی صلاحیت نظر آ جائے۔ کچے پھل کا سودا محض امید پر ہوتا ہے، اس لیے حدیث اسے روکتی ہے۔ خریدار اور بیچنے والے کے لیے بہتر یہی ہے کہ پھل کی کیفیت صاف ہو، پھر سودا کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کچے یا غیر واضح پھل کی بیع سے بچنا چاہیے جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو۔
- محاقلہ، مزابنہ اور مخابرہ جیسے مبہم زرعی سودوں سے ممانعت آئی ہے۔
- عرایا کا حکم الگ رخصت کے طور پر آیا ہے، اسے عام بیع نہ سمجھا جائے۔
