صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۰ - کئی سال کی بیع سے ممانعت

بیع السنین کی حدیث: کئی سال کی بیع سے ممانعت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۳۰

وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ : عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ .

جابر روایت:

منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال کے لیے بیع کرنے سے (یعنی درخت کو یا زمین کو) اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے منع کیا پھل کی بیع سے کئی سال کے لیے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۰ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال کے لیے بیع کرنے سے منع فرمایا۔ ترجمہ میں وضاحت ہے کہ اس سے درخت یا زمین کی بیع مراد ہو سکتی ہے، اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں پھل کی بیع کئی سال کے لیے ہونے کا ذکر ہے۔ اس حدیث کا موضوع بیع السنین، پھل کی چند سالہ بیع، اور زمین یا درخت کے معاملے کی ممانعت ہے۔ اس روایت میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، اس لیے اصل بات یہی ہے کہ کئی سال کے لیے اس طرح کی بیع سے روکا گیا۔ اسے سمجھتے ہوئے متن کے الفاظ ہی کو بنیاد بنانا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کئی سال کے لیے بیع کرنے سے منع کیا گیا۔
  • ایک روایت میں کئی سال کے پھل کی بیع کا ذکر آیا۔
  • زمین، درخت یا پھل کے معاملے میں مدت والی بیع کا پہلو سامنے آتا ہے۔
  • مختصر روایت میں حکم کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جتنا متن میں ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں