صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۴ - مزابنہ اور محاقلہ کی وضاحت
مزابنہ اور محاقلہ کیا ہے؟ حدیث کی روشنی میں آسان جواب
صحیح مسلم : ۳۹۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۳۴
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ : الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُحَاقَلَةِ " ، وَالْمُزَابَنَةُ : اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ ، وَالْمُحَاقَلَةُ : كِرَاءُ الْأَرْضِ .
ابو سعید خدری روایت:
منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے تو مزابنہ کھجور کا بیچنا ہے درخت پر اور محاقلہ زمین کو کرایہ پر چلانا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۴ کا خلاصہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا۔ اسی روایت میں دونوں الفاظ کی وضاحت بھی آئی ہے۔ مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجور کو خریدا جائے، اور محاقلہ زمین کو کرایہ پر چلانے کو کہا گیا ہے۔ اس حدیث میں مزابنہ کی حدیث، محاقلہ کی حدیث، اور زمین کرایہ پر دینے کا مسئلہ ایک ساتھ آتا ہے۔ عام آدمی کے لیے اس روایت کی خاص بات یہ ہے کہ صرف ممانعت نہیں آئی، بلکہ مشکل الفاظ کا مطلب بھی بیان ہو گیا۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے اصل الفاظ اور ان کی دی ہوئی وضاحت ہی کو بنیاد بنانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ سے بھی منع فرمایا۔
- روایت میں مزابنہ کو درخت پر لگے پھل کی خرید سے سمجھایا گیا۔
- محاقلہ کو زمین کرایہ پر چلانے کے طور پر بیان کیا گیا۔
