صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۳ - محاقلہ اور مزابنہ سے ممانعت
محاقلہ اور مزابنہ کی حدیث کا مختصر مفہوم
صحیح مسلم : ۳۹۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۳۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ : الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۳ کا خلاصہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ یہ روایت مختصر ہے، مگر اپنے حکم میں واضح ہے۔ یہاں دو معاملات کے نام آئے ہیں: محاقلہ اور مزابنہ۔ اسی سلسلے کی دوسری روایات میں مزابنہ کی وضاحت درخت پر لگی کھجور کو کھجور کے بدلے بیچنا، اور محاقلہ کی وضاحت زمین کو کرایہ پر چلانا آئی ہے۔ اس حدیث کو سمجھتے وقت یہی محتاط انداز بہتر ہے کہ اصل متن میں ممانعت آئی ہے۔ جو لوگ محاقلہ کیا ہے، مزابنہ کیا ہے، یا محاقلہ مزابنہ حدیث تلاش کرتے ہیں، انہیں یہ روایت بنیادی حوالہ دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ سے منع فرمایا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے بھی منع فرمایا۔
- روایت مختصر ہے، اس لیے اصل حکم کو سادہ انداز میں لیا جائے۔
- زمین اور پھل کے معاملات میں شرعی ہدایت کا خیال ضروری ہے۔
