صحیح مسلم حدیث ۳۹۲۸ - زمین کرایہ پر دینے سے ممانعت
زمین کرایہ پر دینے کی ممانعت والی حدیث
صحیح مسلم : ۳۹۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۲۸
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا ، حَدَّثَهُ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " . قَالَ بُكَيْرٌ : وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : كُنَّا نُكْرِي أَرْضَنَا ، ثُمَّ تَرَكْنَا ذَلِكَ حِينَ سَمِعْنَا حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا زمین کو کرایہ پر دینے سے۔ بکیر نے کہا: مجھ سے حدیث بیان کی نافع نے، انہوں نے سنا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، وہ کہتے تھے: ہم کرایہ پر دیا کرتے اپنی زمین کو پھر چھوڑ دیا ہم نے جب سے رافع بن خدیج کی حدیث سنی (جو آگے آتی ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۲۸ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ اسی روایت میں بکیر کے ذریعے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ذکر ہے کہ وہ اپنی زمین کرایہ پر دیا کرتے تھے، پھر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث سننے کے بعد انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ اس حدیث میں زمین کرایہ پر دینے کی حدیث، کراء الارض، اور مزارعہ کرایہ پر دینے کا مسئلہ صاف سامنے آتا ہے۔ روایت میں خاص طور پر یہ دکھائی دیتا ہے کہ جب ایک صحابی تک ممانعت کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے عمل کو بدل دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کے کرایہ سے منع فرمایا۔
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث سننے کے بعد اپنا عمل چھوڑ دیا۔
- دینی حکم معلوم ہو تو پہلے عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
- زمین کے معاملے میں کرایہ کی صورت کو روایت میں روکا گیا ہے۔
