صحیح مسلم حدیث ۳۹۴۰ - رافع بن خدیج سے کراء المزارع کی روایت
کراء المزارع کی حدیث: رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا بیان
صحیح مسلم : ۳۹۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۴۰
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : ذَهَبْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، حَتَّى أَتَاهُ بِالْبَلَاطِ ، فَأَخْبَرَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " .
نافع روایت:
میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ گیا رافع بن خدیج کے پاس یہاں تک کہ وہ آئے ان کے پاس بلاط میں (ایک مقام کا نام ہے متصل مسجد نبوی کے) اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے مزارعوں کو کرائے پر دینے سے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۴۰ کا خلاصہ
نافع بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، یہاں تک کہ بلاط کے مقام پر ان سے ملاقات ہوئی۔ رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ اس حدیث میں خاص بات یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مسئلہ خود جا کر پوچھا، اور رافع رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیان کی۔ یہ روایت کراء المزارع، زمین کرایہ پر دینے، اور مزارعہ کے مسئلے سے متعلق ہے۔ متن ہمیں حدیث معلوم کرنے کی سنجیدگی اور زمین کے معاملے میں احتیاط دونوں باتیں دکھاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما مسئلہ پوچھنے کے لیے رافع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔
- رافع رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیان کی۔
- مزارعوں کو کرائے پر دینے سے منع کیا گیا۔
- دینی مسئلہ معلوم کرنے کے لیے اصل خبر رکھنے والے سے پوچھنا بہتر ہے۔
