صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۹ - ابن عمر نے مزارعہ کرایہ پر دینا چھوڑا
حدیث کے بعد مزارعہ کرایہ پر نہ دینے کا بیان
صحیح مسلم : ۳۹۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۳۹
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ : فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَكَانَ لَا يُكْرِيهَا .
ترجمہ دوسری روایت کا بھی وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو چھوڑ دیا اور کرایہ پر نہیں دیتے تھے مزارعوں کو۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۹ کا خلاصہ
اس روایت کا اصل ترجمہ پچھلی روایت جیسا ہے، مگر اس میں خاص طور پر یہ اضافہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے بعد مزارعہ کو چھوڑ دیا اور اسے کرایہ پر نہیں دیتے تھے۔ یہ چھوٹا سا اضافہ عمل کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے صرف ایک بار سن کر بات نہیں کی، بلکہ بعد کے عمل میں بھی اسے جاری رکھا۔ اس حدیث میں مزارعہ کرایہ پر دینا، زمین کرایہ کی ممانعت، اور صحابہ کا حدیث پر عمل سامنے آتا ہے۔ چونکہ متن میں یہی بات ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے کہ حدیث معلوم ہونے کے بعد انہوں نے کرایہ والی صورت کو چھوڑ دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بعد میں مزارعہ کرایہ پر دینا چھوڑ دیا۔
- حدیث معلوم ہونے کے بعد مستقل عمل میں تبدیلی آئی۔
- زمین کے مالی معاملے میں ممانعت کا لحاظ رکھا گیا۔
- روایت صحابہ کے محتاط عمل کو بیان کرتی ہے۔
