صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۸ - مزارعوں کو کرایہ پر دینے سے ممانعت
مزارعہ کرایہ پر دینے کی حدیث اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل
صحیح مسلم : ۳۹۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۳۸
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ : " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي إِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ ، حَتَّى بَلَغَهُ فِي آخِرِ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يُحَدِّثُ فِيهَا بِنَهْيٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ " ، فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدُ ، وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا بَعْدُ قَالَ : زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا .
نافع روایت:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی مزارعہ کرایہ پر دیا کرتے تھے (لوگوں کو کھیتی کے لیے اور ان سے کرایہ لیتے زمین کا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور سیدنا ابوبکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانہ خلافت میں اور شروع معاویہ کی خلافت میں یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی اخیر خلافت میں ان کو خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج اس کی ممانعت بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ تو وہ گئے ان کے پاس میں بھی ساتھ تھا اور ان سے پوچھا۔رافع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے مزارعوں کو کرایہ پر دینے سے۔ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کرایہ پر دینا چھوڑ دیا، پھر جب کوئی اس کے بعد ان سے پوچھتا (اس مسئلہ کو) تو وہ کہتے: خدیج کے بیٹے نے یہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اس سے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۸ کا خلاصہ
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی مزارعہ کرایہ پر دیا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، پھر سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے میں، اور معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع میں بھی۔ بعد میں انہیں خبر ملی کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت بیان کرتے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما خود ان کے پاس گئے، پوچھا، اور جواب سننے کے بعد زمین کرایہ پر دینا چھوڑ دیا۔ یہ حدیث مزارعہ کرایہ، زمین کرایہ پر دینے، اور حدیث ملنے پر عمل بدلنے کی بہت صاف مثال ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلے مزارعہ کرایہ پر دیتے تھے۔
- انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے براہ راست پوچھا۔
- ممانعت معلوم ہونے کے بعد انہوں نے کرایہ پر دینا چھوڑ دیا۔
- حدیث معلوم کرنے اور پھر عمل کرنے کا عملی نمونہ ملتا ہے۔
