صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۵ - مخابرہ کے بارے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان

مخابرہ کی حدیث اور صحابہ کا احتیاط والا عمل

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۳۵

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حدثنا ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " كُنَّا لَا نَرَى بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّى كَانَ عَامُ أَوَّلَ ، فَزَعَمَ رَافِعٌ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ " .

عمرو بن دینار روایت:

میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہتے تھے۔ ہم مخابرہ میں کوئی برائی نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ پہلا سال ہوا تو کہا رافع نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا اس سے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۵ کا خلاصہ

عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا: ہم مخابرہ میں کوئی برائی نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ ایک سال رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ اس روایت میں اصل نکتہ یہ ہے کہ ایک معاملہ پہلے لوگوں کے ہاں کیا جاتا تھا، مگر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کی خبر پہنچی تو اسے سنجیدگی سے لیا گیا۔ یہ مخابرہ کی حدیث، مزارعت کی حدیث، اور بٹائی کے مسئلے سے متعلق ہے۔ متن میں یہی بات ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلے اسے برا نہیں سمجھتے تھے، پھر رافع رضی اللہ عنہ کی روایت سامنے آئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلے مخابرہ میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔
  • رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت نقل کی۔
  • دینی مسئلے میں حدیث پہنچنے کے بعد رویہ بدلنا چاہیے۔
  • روایت مخابرہ کے معاملے میں احتیاط کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں