صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۶ - حدیث سن کر مخابرہ چھوڑ دیا
حدیث ملنے پر مخابرہ چھوڑنے کا واقعہ
صحیح مسلم : ۳۹۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۳۶
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ : فَتَرَكْنَاهُ مِنْ أَجْلِهِ .
ترجمہ دوسری روایت کا بھی وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو چھوڑ دیا ہم نے مخابرہ کو اس حدیث کی وجہ سے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۹۳۶ کا خلاصہ
اس روایت کا ترجمہ پچھلی روایت جیسا ہے، مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے اس حدیث کی وجہ سے مخابرہ چھوڑ دیا۔ یہ جملہ بہت اہم ہے، کیونکہ اس میں صحابی کا عملی ردعمل سامنے آتا ہے۔ پہلے وہ مخابرہ میں حرج نہیں سمجھتے تھے، پھر جب رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کی خبر ملی تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ اس حدیث میں مخابرہ کی ممانعت، حدیث پر عمل، اور بٹائی کا مسئلہ سب ایک سادہ سبق دیتے ہیں: جب درست روایت پہنچ جائے تو سابقہ عادت پر اصرار نہیں کیا جاتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حدیث کی وجہ سے مخابرہ چھوڑ دیا۔
- دینی خبر معتبر ہو تو عمل بدلنا صحابہ کا طریقہ تھا۔
- مخابرہ کے معاملے میں ممانعت کو سنجیدگی سے لیا گیا۔
- روایت عمل کو حدیث کے تابع رکھنے کی مثال دیتی ہے۔
